ایڈوکیٹ بابر قادری کے قتل کی تحقیقات، ایس پی حضرت بل کی قیادت میں خصوصی ٹیم تشکیل

سرینگر/سرہامہ بجبہاڑہ میں دو اعلیٰ لشکر کمانڈر از جاں ہو گئے کی بات کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ ابھی بھی کشمیر میں 200کے قریب جنگجو سرگرم ہے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ بابر قادری کے قتل کی تحقیقات کیلئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور بتایا کہ کھاگ میں بی ڈی سی چیرمین کو لشکر جبکہ سی آر پی ایف اہلکار کو جیش جنگجو ؤں نے ہلاک کر دیا۔ سی این آئی کے مطابق پولیس کنٹرول روم سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے کہا کہ سرہامہ بجبہاڑہ میں دو اعلیٰ لشکر کمانڈرں کو ہلاک کر دیا گیا جن میں سے ایک کی شناخت ابو رحان ساکنہ پاکستان جو مارچ 2019سے سرگرم تھا اور دوسرے کی شناخت عادل احمد کے بطور ہوئی ہے اور وہ بھی لشکر کا کمانڈر تھا۔ انہوں نے بتایا کہ عادل نوگام میں دو پولیس اہلکاروں پر حملے میں ملوث تھا۔ ایڈوکیٹ بابر قادری کی ہلاکت کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی جی پی کشمیر نے بتایا کہ بابر قادری کے قتل کی تحقیقات کیلئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ایس پی حضرت بل کررہے ہیں۔آئی جی کشمیر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دو ماسک لگائے افراد ہاتھوں میں فائلیں لئے کسی کیس کو لیکر بات کرنے کے بہانے بابر قادری کے گھر پہنچے اور انہوں نے بابر پر پستول سے گولیاں چلاکر اْنہیں جاں بحق کیا۔آئی جی کشمیر کے مطابق بابر کو گولیاں مارنے کے بعد دونوں افراد نے ہوا میں بھی گولیاں چلائیں اور جائے مقام سے فرار ہوئے۔ کھاک بڈگام میں بی ڈی سی چیرمین بوپندر سنگھ کی ہلاکت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی نے کہا کہ علاقے کا دورہ کرنے کے بعد بی ڈی سی چیرمین نے اپنے ذاتی محافظوں کو آرام کرنے کیلئے کہا تھا اور وہ اکیلے واپس نکلا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شاید جنگجو ؤں اس بات کو جانتے تھے جس دوران انہوں نے بی ڈی سی چیرمین پر گھر کے نزدیک حملہ کیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ آئی جی پی نے کہا کہ اس معاملے میں ان کے دو ذاتی محافظوں کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کی ہلاکت میں دو لشکر جنگجو یوسف کاندور اور ابرار ملوث ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کو جلد ہی ہلاک کر دیا گیا جائے گا۔ چاڈورہ بڈگام میں سی آر پی ایف آفیسر کی ہلاکت کے بارے میں آئی جی پی کشمیر نے کہا کہ جیش کے جنگجوؤں نے M-4رائفل سے آفیسر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے مزید کہا کہ وادی کشمیر میں ابھی بھی 170سے 200کے جنگجو سرگرم ہے جن میں سے 40کے قریب غیر ملکی جنگجو ہے اور انہیں پولیس نام سے جانتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں