بے روز گاری کرونا سے بھی زیادہ مہلک

جموں‌کشمیر ہی نہیں‌بلکہ پورے بھارت میں نوجوانوں کیلئے سب سے برا مسئلہ روزگار کی فراہمی ہے۔ روزگار فراہم نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان معاشرتی برائیوں کا حصہ بن رہے ہیں اور ان کے اندر کی خوبیاں خامیوں میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ وسائل کا محدود ہونا اور آبادی میں تیزی سے اضافہ لوگوں کو بے روزگاری کی طرف دھکیلتا ہے۔ پھر بے روزگاری کی ایک اور وجہ ہمارے یہاں رسمی نوعیت کا نظام تعلیم ہے جسے درست سمت میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ طلباء کو ان کے طبعی رجحانات کے مطابق تعلیم دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس مخصوص کام میں دلچسپی سے جٹ جائیں۔مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستوں کی حکومتیں بھی نوجوانو ں کو روزگار فراہم کرنے میں پوری طرح سے ناکام ہوگئی ہے اوریہ ایک وجہ ہے کہ آج کا طالب علم کالج، یونیورسٹی کے بجائے سڑک پر نکل آنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ حکومتوں کی غلط پالیسوں کی وجہ سے پورے دیش میں نوجوان تذبذب کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ عام انسان جواپنی پیٹ کی آگ کوبجھانے کی خاطرضرورت کاسامان حاصل کرنے کیلئے دردرکی ٹھوکرے کھا رہاہے،گھریلوں ضرورتوں کوپورانہیں کرپاتے ہے اورہروقت اس تزبزب میں رہتے ہیں کہ آنے والاکل معلوم نہیں کیساہوگا۔ایک ہیجانی سی کیفیت پورے ملک میں بپاہوچکی ہے لوگ طرح طرح کی پریشانیوں میں مبتلاہوگئے ہیں اقتصادی حالت دن بدن بدسے بدترہوتی جارہی ہے۔دوسری جانب کاروبار پوری طرح سے سمٹ کررہ گیاہے لوگوں کی آمدانی کے ذرائع گھٹ رہے ہیں اخراجات میں دن بدن اضافہ ہوتاجارہاہے جس کی وجہ سے گھرکی رسوئی بھی متاثرہوگئی ہے اورلوگ اپنے آپ کوکوس رہے ہیں کہ انہوں نے ایساکون ساگناہ کیاتھاجس کی انہیں اتنی بڑی سزامل رہی ہے۔عوامی حلقوں نے اس بات کابھی اظہارکیاہے کہ وہ پیٹ کی آگ کوبجھانے میں دقتوں دشواریوں مشکلات کاسامناکررہے ہیں کہی سے بھی لوگوں کوامیدکی کوئی کرن نظرنہیں آرہی ہے اورنہ ہی سرکارکی جانب سے معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔نوجوانوں کی بے کاری کے مسئلے کو معمول پرلانے کیلئے ٹھوس بنیادوں پراقدامات اٹھانے کی ضرو ر ت محسوس کی جارہی ہیں۔ دوسری جانب تربیت یافتہ انجینئروں اور ڈاکٹروں کی ایک خاصی تعداد بے روزگار ہے۔ اگر جدید قسم کے مختلف کارخانے قصبوں اور گاؤں میں کھلولے جاتے تو بے کاری اور بے روزگاری کی اتنی بڑی تعداد اس وقت ملک میں نہیں ہوتی۔ مرکزی سرکار کو بے کاری اور بے روزگاری کے مسائل کا کوئی کارگر حل تلاش کرنا چاہیے اور روزگار کے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ نوجوان معاشرتی اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ بیروزگاری کامسئلہ حل کرنے کے لئے زمینی سطح پر ٹھوس اقدام اُٹھائے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں