بین الاقوامی یوم صحافت اور جموں وکشمیر میں اردو صحافت کا پس منظر۔۔۔۔

بین الاقوامی یوم صحافت اور جموں وکشمیر میں اردو صحافت کا پس منظر۔۔۔۔

انسانی معاشرے میں صحافت کا کردار اور اہمیت کی جب یاد تازہ ہوتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اکبر الہ آبادی کا درج ذیل شعر دہرایا جاتا ہے:
کھینچو نہ کمانو کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
اس کا مطلب یہ ہوا کے صحافت اتنی موئثر اور طاقتور ہے کہ اس کے سامنے تیر، کمان، بندوق اور توپ کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں گویا ایک قلم کے سامنے ایسی چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔ مندرجہ بالا شعر کہتے وقت اکبر الہ آبادی کے ذہن میں یقیناً تاریخ کے جانے مانے جرنیل اور اپنے عہد کے عظیم ڈکٹیٹر نپولین بونا پاٹ کا یہ مشہور مقولہ رہا ہوگا جس میں اس نے صحافت کی طاقت کے سامنے سرنگوں ہوتے ہوئے کہا تھا کہ:
“Four hostile newspapers are more to be feared than a thousand bayonets”
یعنی” چار دشمن اخبارات ہزار سنگینوں سے زیادہ خوفزدہ ہیں’
نپولین بونا پاٹ کا مندرجہ بالا خوف یقینی طور پر صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس نے ضرور اس بات کو محسوس کیا ہوگا کے دشمن کی صفوں میں انتشار برپا کرنے میں توپ اورتفنگ، لاؤ لشکر، تیر، تلوار کے ساتھ ساتھ ہاتھیوں، گھوڑوں اور فوجیوں کی بے پناہ طاقت صحافت کے سامنے کند ہے۔ جو کام صحافت سے لیا جا سکتا ہے، وہ توپوں اور بندوقوں سے کبھی نہیں لیا جا سکتا۔
صحافت کا فن بہت قدیم ہے۔ خبروں کی فروخت کا سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ جیسے جیسے انسانی سماج ترقی کے مراحل طے کرتا گیا اسے خبروں کی اہمیت اور ضرورت کا احساس ہوتا چلا گیا۔ صحافت کی ذمہ داری پہلے ان لوگوں نے سنبھالی جو اشاعتی اداروں کے مالک تھے۔ یہ ابتدائی صحافت تاریخ نویس Pamphelete بعض کے نام سے جانے جاتے ہیں کیونکہ یہ چھوٹے کتابچوں کے ذریعہ نئے معلومات کی نشرواشاعت کا کام کیا کرتے تھے۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اخباروں کے طباعت کا مشینوں کے ساتھ گہرا رشتہ ہے جیسے پرنٹنگ بہتر ہوتی گئی، اخباروں نے نئے رنگ روپ اختیار کیے۔ ہندوستان میں اخبار نویسی کی تاریخ انتہائی پرانی بھی نہیں ہے۔ دراصل اس کی شروعات چھاپہ خانے کے رواج کے بعد سے ہوئی۔ کوئی ڈیڑھ سو برس کی مدت میں روشن اور تابناک تاریخ کی کی منزلیں اس نے طے کی ہے۔ یوں تو 1822 میں کولکتہ سے سب سے پہلے اردو اخبار”جام جہاں نما” جاری ہوا۔ اس کے بانی ہری ہردت اور ایڈیٹر عزت مآب لالہ سدا سکھ تھے۔ یہ بھی واضح ہو کہ چند اسباب کی بنیاد پر مذکورہ اخبار کو اردو کا سب سے پہلا اخبار تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ان میں بنیادی وجہ یہ ہے کی یہ اخبار کچھ زبانِ اردو اور زبانِ فارسی میں شائع ہوتا تھا۔ چنانچہ یہ تسلیم کیا جاتا ہے کے سب سے پہلا خالص اردو اخبار” اخبار دہلی” تھا جس کے بانی مولانا محمد حسین آزاد کے والد محترم مولوی باقر نے دہلی سے جاری کیا تھا۔ بہت سے معلومات افزا مضامین علمی، ادبی، تاریخی اور تعلیمی موضوعات پر اس میں شائع ہوتے تھے اور1857 کی جنگ آزادی میں اس اخبار نے جو اہم کردار ادا کیا وہ قابل ستائش ہے۔ اس کی پالیسی آزاد خیالی تھی، اس لیے اس زمانہ میں سامراجی حکومت کے خلاف خوب لکھا گیا۔ اس اخبار نے ہندوستانی قوم پرستی یعنی حبِ طنی کی حمایت کی۔ یہی وجہ ہے کہ غدر فرو ہونے پر مولوی باقر کو پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑا اور اس طرح حب الوطنی کے محاذ کی قربان گاہ پر اردو صحافت کے پہلے قوم پرور اور محب وطن کی قربانی ہوئی۔ اردو کے دوسرے اخبار کے طور” سید الاخبار” کا نام سامنے آتا ہے۔ اس کی ابتدا دہلی میں ہی سرسید احمد خان کے بھائی محمد کے ہاتھوں ہوئی تھی اور یہی وہ اخبار ہے جس کے ذریعہ سرسید کے خیالات سے عوام متعارف ہوئی تھی۔ اس کے بعد اردو اخبارات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا جس سے انمرد، محب وطن، بے باک ونڈر بہت سے قلم کے شہ سوار صحافتی افق پر نمودار ہوۓ۔ آسمانِ صحافت کے اولین ستاروں میں مولانا ظفر علی خان، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی اور مولانا عبدالحمید سالک وغیرہ ہیں۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب صحافت پر سیاست حاوی ہونے لگی اور دنیا کے بڑے بڑے صنعت کار، دولت مند اور بعض ممالک کی حکومتیں، صحافت کے بے پناہ طاقت کا اپنے مفاد میں استعمال کرنے لگیں ، تب ایسے حالات سے متاثر ہوکر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے1991 کی اپنی26 ویں اجلاس میں منظور قرارداد کو نافذ کرتے ہوئے 1993 سے ہر سال 03 مئ کو عالمی سطح پر یوم آزادی صحافت کے انعقاد کا فیصلہ کیا جس کے تحت صحافتی تحریروں پر پابندی لگانے، انہیں سنسر کرنے، جرمانہ عائد کرنے نیز صحافیوں کو زد و کوب کۓ جانے ، ان پر جان لیوا حملہ کۓ جانے، انہیں اغوا کۓ جانے اور انہیں بے دردی سےقتل کۓ جانے پر غوروفکر کرنے اور ان کے سدباب کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایسے حالات سے نپٹنے اور حکمت عملی تیار کئے جانے پر زور دیا گیا۔ یونیسکو نے ایسے مقامی اور عالمی سطح کے اداروں، شعبوں، این جی اوز وغیرہ کی صحافتی حفاظت، آزاد صحافت اور ترقی پسند صحافت کے لیے مثبت اقدام کیے۔
جموں و کشمیر میں اردو صحافت کا آغاز مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد میں اس وقت ہوا جب مہاراجہ نے1867 میں ایک ہفت وار اخبار” بدیا بلاس” جموں سے شائع کرنے کی اجازت دے دی لیکن 1885 میں مہاراجہ رنبیر سنگھ کی وفات کے بعد یہ اخبار بھی بند ہوگیا۔ لالہ ملک راج صراف کا نام زبان پر آتے ہی جموں میں اردو صحافت کے شاندار ابتدائی دور کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔24 جون 1924 کو انہوں نے اپنا اردو اخبار “رنبیر” کے نام سے جاری کیا تھا جس کے سبب ریاستی قلم کاروں کی ایک کہکشاں بھی سامنے آئی۔ جولائی 1933 میں جموں سے “پاسبان” نام کا ایک اخبار منشی معراج الدین نے شائع کیا اور اسی طرح1932 میں کشمیر میں سب سے پہلے بریم ناتھ بزاز نے “وتستا” کے نام سے ایک اخبار جاری کیا جسے کشمیر کا پہلا اردو اخبار تصور کیا جاتا ہے۔
1947 کے بعد جموں کشمیر میں اردو صحافت کا سفر بڑی تیز رفتاری کے ساتھ شروع ہوا اور اس وقت تک سینکڑوں روزنامے، ہفت روزے اور ماہنامے یہاں اردو صحافت کو فروغ دے رہے ہیں۔ کشمیر کے جن صحافیوں نے 65۔ 1960 سے اردو صحافت کے معیار کو قائم کرکے اپنی بیش بہا خدمات انجام دیں اُن میں مولوی محمد سعید مسعودی، غلام محمد کشفی، مفتی جلال الدین، مولوی غلام نبی مبارکی، مولوی قاسم شاہ بخاری، غلام محی الدین رہبر، عاشق کاشمیری، میر عزیز، نندلال واتل، غلام رسول عارف، شمیم احمد شمیم، خواجہ ثناء اللہ بٹ، صوفی غلام محمد، غلام نبی خیال، کرشن دیو سیٹھی، کارٹونسٹ بشیر احمد بشیر، فیاض احمد کلو،یوسف جمیل اور طاہر محی الدین جیسے ممتاز صحافیوں کی اردو صحافتی خدمات آبِ زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔ ان کی خدمات کو کشمیر میں اردو صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ وکےساتھ قلم بند کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر میں اردو صحافت کے عصری منظرنامہ کے حوالے سے یہ بات اطمینان بخش ہے کہ یہاں ایک سو کے قریب روزناموں اور ہفت روزوں کی اشاعت اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ 1980 کے بعد بتدریج روزناموں کی تعداد بڑھتی چلی گئی ہے۔ جموں کے مقابلے کشمیر میں اخبارات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جن میں کچھ اہم اخبارات کے نام درج کرنا بے حدضروری معلوم ہوتا ہے جیسے روزنامہ کشمیر عظمی، سرینگر جنگ، تعمیل ارشاد، روشنی، ایشین میل، نگران،گڑھیال ،شہربین ٹآمز وغیرہ ہفت روزہ رہبر، گواہ ایکسپریس، کشمیر ایکسپریس اور جموں سے شائع ہونے والے لازوال اور اُڑان قارئین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں حالانکہ اپنے زمانہ کے چند مشہور اردو اخبارات میں آج کل اشتہارات کے علاوہ پڑھنے کے لئے مواد کی کافی کمی محسوس ہوتی ہے۔ بڑی عجیب بات یہ ہے کے چند اخبارات میں اردو ادب کے سلسلے میں آپ کو ایک بھی کالم پڑھنے کو نہیں ملے گا۔ یہ بات ذہن نشین کرانا بےحد ضروری ہے کہ آج کے جدید دور میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے بدولت محض خبروں کے لئے کوئی بھی شخص اخبار نہ پڑھتا ہے نہ خریدتا ہے بلکہ ادب سے محبت قارئین کو اخبار پڑھنے یا خریدنے پر مجبور کرتی ہے۔ اردو اخبار کے بانی یا ایڈیٹر کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے اخبار میں اردو ادب کو فروغ دینے کے لیے اپنی کاوشوں کا بھرپور استعمال کرے۔ آج کل کے عہد جدید میں، جہاں لوگ اردو ادب کو بھول چکے ہیں، محض چند روز نامے یہ ہفت روزے اخبارات اردو ادب کو لے کر بہت سنجیدہ ہیں۔ ان اخبارات میں روزنامہ کشمیر عظمی، سرینگر جنگ، تعمیل ارشاد، ایشین میل،نگران، روشنی، اُڑان ،شہربین ٹآمز، گڑھیال وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان اخبارات میں اردو ادب کے فروغ کے لیے الگ الگ صفحے نسب رہتے ہیں جن میں ابھرتے قلم کاروں کی تخلیق اور مضامین کے ساتھ ساتھ ملک کے نامور ادیبوں اور شاعروں کی شاعری قارئین کی اخبار کے ساتھ دلچسپی برقرار رکھنے کا کام کرتی ہے۔ میں یہ بات ضرور لکھنا چاہوں گا کہ ایک اخبار صفحوں کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ اسے جام جہاں نما بھی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ آج کے اس دور میں اخبارات جو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں وہ محتاج بیاں نہیں لیکن انٹرنیٹ اور موبائل فون کی آمد سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی چیز یہاں کی صحافت اور خاص طور پر اخبارات ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی وجہ سے اخبار بینی کا بڑھتا شوق دھیرے دھیرے ختم ہونے کے عروج پر ہے۔ جہاں محض چند سال پہلے ہزاروں کی تعداد میں اخبارات کی کاپیاں چھپتی تھی اور بازاروں میں اخبار فروشوں کی چہل پہل رہتی تھی، اب وہاں ان کی گنتی سینکڑوں میں بھی نہیں ہے کیونکہ کل کا “اخبار” آج کا “ای پیپر “بن چکا ہے جو بنا کسی قیمت رات کے بارہ بجے فون میں دستیاب رہتا ہے۔ جہاں پچھلے دس سالوں میں مہنگائی نے آسمان کی بلندیوں کو چھوا، وہاں بدقسمتی سے ایک اخبار کی قیمت ابھی بھی دو یا پانچ روپے سے تجاوز نہ کرسکی اور یہ قیمت بہت سالوں سے ایک جگہ برقرار ہے جس کی وجہ سے بہت سارے اخبارات کے مالکان نے اپنے کندھوں پر سے صحافت کا بوجھ ہلکا کرتے ہوئے اپنے اخبارات کو یا تو بیچ ڈالا یا کسی designer یا publisher کے حوالے کردیا اور یہی وجہ ہے اردو کے چند اخبارات میں” انگور کے فائدے” جیسے مضامین کو آج بھی چھاپا جا رہا ہے اور یہ اخبارات اردو صحافت کو لے کر کبھی بھی سنجیدگی سے اپنا فرض ادا نہیں کرتے جس کی وجہ سے قارئین ایسے اخبارات پڑھنے یا خریدنے سے پرہیز تو کرتی ہے لیکن ان کی اس بےسود حرکت کے بُرے اثرات وادی کے بہترین اخبارات پر صاف صاف عیاں ہوتے نظر آرہے ہیں۔ سب سے بڑا لمحہ فکریہ اردو زبان سے کھلواڑ ہے۔ اردو اخبارات میں جو رپورٹ شائع ہوتی ہیں ان میں اردو کے ساتھ ساتھ ہندی زبان کے اثرات صاف صاف نظر آ رہے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندی زبان ہی اردو زبان پر غالب نظر آ رہی ہے۔ اردو زبان میں ہندی الفاظ کا استعمال اب ایک عام سی بات ہوگئی ہے لیکن یہ بات اردو ادب کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ان اخبارات کے ایڈیٹر حضرات سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ ایسی رپورٹ یا خبر اپنے اخبار میں شائع کرنے سے پہلے اس کی توضیح کیا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ اردو اور ہندی لفظوں کی یہ ملی بھگت جموں کشمیر میں ایک نئی زبان کے آغاز و ارتقاء کا سبب نہ بن جائے۔ اردو زبان میں مواصلاتی ذرائع کی جگہ جس طرح انگریزی اور ہندی زبان لے رہی ہے وہ جموں کشمیر کی اس مین سٹریم صحافتی زبان کے لیے نیک شکون نہیں ہےاور اس وقت اردو صحافت کا معیار بلند کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہر ایک صحافی کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اس پیشے کی قدر کرتے ہوئے اپنا فرض ایمانداری کے ساتھ ادا کرے اور محض copy and paste پر انحصار نہ کرے بلکہ ارسالی مواد کو پہلے سنجیدگی سے پڑھ کر اور اس کی توضیح کرنے کے بعد اپنے اخبار میں شائع کرے۔
یہ بات بڑی قابل غور ہے کہ ہندوستان کے نمبر 1 میڈیا انسٹیٹیوٹ IIMC یعنی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونیکیشن میں اردو صحافت میں داخلے کے لیے اس سال محض5 درخواستیں آئی ہیں جبکہ نشستیں 25 ہیں ۔ جب ہمارے اپنی ہی لوگ اردو صحافت کی پڑھائی نہیں کریں گے اور کل آئی ائی ایم سی نے شعبہ اردو کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تو سوچو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ اُس وقت پھر ہنگامہ کرنے سے بہتر ہے کہ اس چیز کو بڑی سنجیدگی کے ساتھ لیتے ہوئے لوگوں میں اردو ادب اور صحافت سے دوری کو کم کرنا ہے، اور اس کام کو ایک صحافی سے بہتر اور کون کرسکتا ہے!!
کشمیر میں اردو صحافت ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ میدان صحافت میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے مالک صحیفہ نگاروں کے آ جانے سے پیش رفت کے امکانات زیادہ ہو گئے ہیں۔ میڈیا سے منسلک باصلاحیت اور پیشہ ور نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کشمیر کا اردو پریس ملک کے دوسرے بڑے اردو مراکز جیسے دہلی اور حیدرآباد کے اردو پریس کے معیار پر پورا اترنے کے لیے ہمہ تن مصروفِ جہد ہے۔ ترقی اور پروفیشنلزم کی اس دوڑ میں وہی اخبار اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو سکے گا جو صحافت میں رونما ہونے والی جدید تخلیقات کا بھرپور ادراک رکھتا ہو جسکی مثال روزنامہ کشمیر عظمی، سرینگر جنگ، تعمیل ارشاد، ایشین میل،نگران، روشنی ،اُڑان، گڑھیال شہربین ٹآمز وغیرہ جیسے اخبارات ہیں اور جن کی وجہ سے آج بھی اردو صحافت زندہ ہے۔ بالآخر بین الاقوامی یوم صحافت کے موقع پر میں جموں کشمیر کے تمام صحافی حضرات کو اپنے دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
فاضل شفیع فاضل
اکنگام انت ناگ
fazilshafibhat@gmail.com

اپنا تبصرہ بھیجیں