پاکستانی فوجی جنرل قمر جاوید باجوہ کا اعتراف: فوج نے ہمیشہ پاکستانی سیاست میں دخل اندازی کی، گندکی ذمہ داری………..

پاکستانی فوجی جنرل قمر جاوید باجوہ کا اعتراف: فوج نے ہمیشہ پاکستانی سیاست میں دخل اندازی کی، گندکی ذمہ داری بھی قبول کی.
پاکستان کے فوجی جنرل قمر جاوید باجوہ نے کھلے عام اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان میں1947 سے ہی فوج نے سیاست میں دخل اندازی کی اور اسے فوج کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا. پاکستان کے لوگ اس خطاب کو تاریخی قرار دے رہےہیں کیونکہ انہوں نے گزشتہ 70 برسوں میں فوج کے سیاسی کردار کا کھل کر اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کو سیاست ملک کے دیگر معاملات میں مسلسل بالواسطہ مداخلت کے ساتھ متواتر وقفوں سے تین براہ راست فوجی مداخلتوں کا سامنا رہا ہے اور یہ اقدام فوج کے آئین میں وضع کردہ دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ جنرل باجوہ نے یہ اعتراف کرتے ہوئے کوئی عار محسوس نہ کی کہ اس طرح کی مداخلتیں فوج کی ذمہ داریوں کے دائرے سے باہر ہیں، اور انہوں نے اسے [مداخلتوں کو] نہ صرف فوج کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا بلکہ غیر آئینی بھی کہا۔ تاہم، انہوں نے اپنے ادارے کی اس بات کی توثیق کی کہ فوج اب مزید ایسے اقدامات نہیں کرے گی اور سیاست سے دور رہے گی۔ بعض نے اسے گورباچوف کا لمحہ بھی قرار دیا کہ دیکھیں کیسے ایک آرمی چیف گزشتہ کئی دہائیوں میں پیدا ہونے والے گند کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں کہ ادارہ مستقبل میں ایسا نہیں کرے گا۔ جنرل باجوہ نے کچھ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے فوج کیخلاف ’’جعلی‘‘ بیانیہ تیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے حالیہ ’’بہتان تراشی‘‘ پر تنقید کی۔ کوئی شک نہیں کہ ماضی کی غلطیوں کا ذمہ دار خالصتاً فوج کو قرار نہیں دیا جا سکتا، سیاسی جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ اس غلطی میں اپنے حصے کا بھی اعتراف کریں۔ لیکن چونکہ فوج نے ماضی میں زیادہ عرصہ تک ملک پر حکمرانی کی ہے اسلئے غلطیوں کی ذمہ داریوں میں اسے زیادہ حصہ ڈالنے کا اعتراف کرنا پڑے گا کیونکہ اس سے قوم کا سماجی، سیاسی اور معاشی تانا بانا لیروں لیر ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کا کیا گیا وعدہ پوری سچائی کو سامنے لانے کی ایک حقیقی کوشش کی نشاندہی کرتا ہے یا نہیں تاکہ ویژن مکمل طور پر تبدیل ہو سکے اور مطلوبہ ضرورت کے مطابق سمت کو درست کرنے، حقیقی اصلاح لانے اور مفاہمت کی کوششوں میں مدد مل سکے۔ یا پھر یہ سب محض باتیں اور صرف پیوند لگانے کی ایک کوشش ہے۔
پاکستانی جنرل کے اعتراف کے بعد پاکستان کی سیاست پر اس کا کیسا اثر پڑے گا یہ سب کچھ آنےوالے دنوں میں‌پتا چلے گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں