دوا کی خوراک میں زیادتی سے 1 لاکھ سے زائد اموات

امریکا میں دوا کی ضرورت سے زیادہ خوراکیں لینے کا معملہ بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے اور اس سے متعلق گزشتہ بدھ کو سینٹر فار ڈِیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن نے ایک اور بد ترین ریکاڑ رپورٹ کیا ہے۔

ایجنسی نے انکشاف کیا ہے کہ ستمبر 2020 سے ستمبر 2021 کے درمیان اندازاً 1 لاکھ 4 ہزار 288 امریکیوں کی دوا کی ضرورت سے زیادہ خوراک لینے کے سبب موت واقع ہوئی۔ 12 ماہ کے اندر ہونے والی اموات کی یہ تعداد ریکارڈ ہے۔

یہ لگاتار چوتھے مہینے ایسا ہو رہا ہے کہ دوا کی خوراک کی زیادتی کے سبب ہونے والی اموات کا سالانہ ریکارڈ بنا ہے۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ امریکا میں ایک سال کے اندر دوا کی خوراک میں زیادتی کے سبب اموات میں 16 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

ان اموات کی بڑی تعداد اوپیئڈز کے سبب ہوئی اور اس میں بھی مصنوعی اوپیئڈز کے سبب جیسے کہ فینٹینائل جس نے امریکا کو گزشتہ سالوں میں تیزی سے اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔

سی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق 78 ہزار 388 اموات اوپیئڈز کی وجہ سے ہوئیں جن میں سے 86 فی صد کا سبب دوا کا مصنوعی ورژن بنا۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ امریکا کے وسطی مغرب اور شمال مشرقی ایپالاچیئن خطے دوا کی خوراک کی زیادتی کے مسئلے سے دوچار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں