کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے، کوہلی

بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے فاسٹ ابؤلر محمد شامی کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے والے لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے۔

قومی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے فاسٹ ابؤلر محمد شامی کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے والے لوگوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بدترین انسانی عمل ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گزشتہ اتوار روایتی حریف پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ میں بھارتی باؤلرز 153 رنز کے تعاقب میں کوئی بھی وکٹ لینے میں ناکام رہے تھے اور پاکستان نے بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی۔

اس میچ میں تمام بھارتی باؤلرز ہی ناکام رہے تھے لیکن سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے محمد شامی کو مسلمان ہونے کے سبب شکست کا ذمے دار قرار دیتے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا تھا۔

نیوزی لینڈ کے خلاف اتوار کو ہونے والے میچ سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کوہلی نے کہا کہ کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانا بحیثیت انسان سب سے بدترین عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کرنے والے لوگوں میں اتنی جرات نہیں کہ وہ لوگوں کے سامنے آ کر کچھ بول سکیں، لوگ باہر کیا بولتے ہیں اس کی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، ہم نے کبھی اس پر توجہ نہیں دی اور نہ کبھی دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنا نقطہ نظر بیان کرنا ہر کسی کا حق ہے لیکن میں نے کبھی کسی فرد سے مذہب کی بنیاد پر متعصبانہ رویہ اختیار کرنے کے بارے میں سوچا تک نہیں، مذہب ایک مقدس اور ذاتی چیز ہے اور اس کو وہیں تک رہنا چاہیے۔

قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ وہ ایسے ناکام لوگوں پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے جنہوں نے اس حقیقت کو نظرانداز کردیا کہ محمد شامی نے ملک کے لیے کتنی خدمات انجام دی ہیں، گزشتہ کچھ سالوں میں شامی نے ہمیں کئی میچ جتوائے ہیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں جب بھی باؤلنگ کی بات کی جاتی ہے تو بمراہ کے ہمراہ شامی ہمارے اہم ترین باؤلر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ میں اپنی زندگی کا ایک منٹ بھی اس طرح کے لوگوں پر توجہ دے کر ضائع نہیں کروں گا اور نہ ہی شامی یا ہماری ٹیم کا کوئی اور رکن ایسا کرے گا جبکہ اس طرح کے عمل سے ہمارے ڈریسنگ روم کے ماحول پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

کوہلی نے فاسٹ باؤلر کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم شامی کے ساتھ کھڑے ہیں اور 200فیصد ان کی حمایت کرتے ہیں، جن لوگوں نے ان پر حملہ کیا وہ بے شک مزید طاقت کے ساتھ وارد ہوں لیکن ہماری ٹیم میں دوستی اور برادرانہ تعلقات کو وہ ہلا تک نہیں سکیں گے۔

سوشل میڈیا پر کسی کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنانے کے عمل کو کوہلی نے بدترین انسانی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ سوشل میڈیا پر کسی شناخت کے پیچھے چھپتے ہیں، لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور اسے تفریح کا ذریعہ کا سمجھ لیا گیا ہے جو انتہائی بدقسمتی اور افسوس کی بات ہے۔

مزید پڑھیں: انڈین ٹیم کی شکست کے بعد واحد مسلمان کھلاڑی محمد شامی پر بھارتی برہم

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی قومی سطح پر نمائندگی کرنے والے خاص لوگ ہوتے ہیں اور عام لوگوں کو اندازہ تک نہیں ہوتا کہ انہوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے کتنی قربانیاں دی ہوتی ہیں۔

ٹرینٹ بولٹ کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی کی طرح بھارتی بیٹنگ لائن کو نشانہ بنانے کے اعلان کے حوالے سے سوال پر بھارتی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ بولٹ کا سامنا کرنے کے لیے ہم نے اپنا الگ منصوبہ بنایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ٹرینٹ بولٹ ویسی ہی کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں جیسی شاہین نے ہمارے خلاف دکھائی تھی تو یقیناً انہیں ایسا کرنے کی تحریک ملی ہو گی اور ہمیں بھی ان کا مقابلہ کرنے کی تحریک ملی ہے اور ہم ان سمیت دیگر باؤلرز پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک عرصے سے ان تمام باؤلرز کے خلاف کھیل رہے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے، سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم میدان میں کس سوچ کے ساتھ اترتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں