اشرف غنی اپنے ساتھ 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر لے گئے، افغان سفیر

افغانستان کے صدر اشرف غنی ملک میں طالبان کے قبضے کے فوری بعد صدارتی محل چھوڑ کر کابل سے چلے گئے تھے تاہم اب انکشاف کیا گیا ہے وہ اپنے ساتھ ملکی خزانے سے 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر بھی لے گئے۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں افغانستان کے سفیر نے الزام عائد کیا ہے کہ اشرف غنی جب اتوار کو ملک سے جارہے تھے تو تقریباً 16 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی رقم ساتھ لے گئے۔

افغان سفیر محمد ظاہر اغبار نے دوشنبے میں سفارت خانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صدر اشرف غنی کی پرواز قوم اور ملک کے ساتھ دھوکا تھا۔

پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر کی غیر موجودگی میں سینئر نائب صدر ملک کا نگران ہوتا ہے اس لیے امراللہ صالح اس وقت افغانستان کے قائم مقام صدر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امراللہ صالح نے بی بی سی کو آڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ افغانستان کے قانونی عبوری صدر ہیں اور اعلان کیا تھا کہ جنگ ختم نہیں ہوئی۔

طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق تاجکستان میں افغانستان کے سفارت خانے نے انٹرپول سے درخواست کی ہے کہ اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو گرفتار کرلیا جائے۔

ذرائع کے حوالے سے ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘اشرف غنی، حمداللہ محب اور فضل محمود فضلی کو سرکاری خزانہ لوٹنے کے الزام میں گرفتار کرلیا جائے تاکہ فنڈ افغانستان کو واپس مل سکیں’۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ ‘وزارت خارجہ تصدیق کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے صدر اشرف غنی اور ان کے خاندان کا انسانی بنیادوں پر ملک میں خیرمقدم کیا ہے’۔

یاد رہے کہ 16 اگست کو افغانستان کے صدر اشرف غنی اور ان کے قریبی ساتھی ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے اور ان کے مقام کا تعین نہیں کیا جاسکا تھا جبکہ طالبان قیادت نے اپنے جنگجوؤں کو دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کا حکم دے دیا تھا۔

افغان مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے آن لائن ویڈیو بیان میں اشرف غنی کے ملک چھوڑنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘وہ مشکل وقت میں افغانستان چھوڑ گئے ہیں، اللہ ان سے پوچھے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی مشکل وقت میں ملک کو چھوڑ کر گئے ہیں، جس پر انہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔

افغانستان چھوڑ کر جانے کے بعد اپنے پہلے بیان میں اشرف غنی نے طالبان سے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ‘خون ریزی سے بچنے’ کے لیے ملک چھوڑ گئے ہیں کیونکہ طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہوگئے تھے۔

افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ اگر وہ وہاں رک جاتے تو یقین تھا کہ ‘بے شمار محب وطن شہپد ہوتے اور کابل شہر تباہ ہوجاتا’۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘طالبان جیت چکے ہیں اور اب وہ اپنے ہم وطنوں کی عزت، املاک اور سلامتی کے ذمہ دار ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وہ اب ایک نئے تاریخی امتحان کا سامنا کر رہے ہیں، کیا وہ اپنے نام اور افغانستان کی عزت محفوظ کریں گے یا پھر وہ دیگر جگہوں اور نیٹ ورکس کو ترجیح دیں گے’۔

اشرف غنی نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کون سے ملک چلے گئے ہیں لیکن افغانستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ طلوع نیوز نے رپورٹ کیا تھا کہ وہ تاجکستان جا چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں