تربیت اولاد اور والدین کی ذمداریاں

تربیت اولاد اور والدین کی ذمداریاں
از:منظور احمد گورکھو۔ (استاذ الکلیۃ السلفیۃ)
الحمد للّٰہ وحدہ و الصلاۃ والسلام علٰی من لا نبی بعدہ۔أما بعد:

Manzoor Ahmad Gorkhu

اللہ تعالی نے بنی نوع انسان کو گوناگوں نعمتوں سے نوازا ہے کچھ نعمتیں ایسی ہیں جن کا انسان ادراک کرسکتا ہے اور کچھ نعمتیں ایسی ہیں جن کا ادراک کرنا انسان کی استطاعت سے بالاتر ہے۔اللہ تعالی کی عطاکردہ نعمتوں کی تعداد اتنی ہیں کہ انسان ان کا شمار کرنے سے بھی قاصر ہے۔ اللہ تعالی کی عطاکردہ انہی نعمتوں میں سے ایک اولاد کی نعمت ہے۔یہ ایک ایسی نعمت ہے جس کے حصول کیلئے انبیاء کرام نے اللہ کے حضور دعاء کی اور جس کی حصول یابی کیلئے اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو ابھارا۔اولاد والدین کیلئے آنکھوں کی ٹھنڈک،گھر کا چراغ،بڑھاپے کا سہارا،مستقبل کی امید اور جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔یہ ایسی نعمت ہے کہ جس کی جدائی پر اللہ کے آخری رسول ﷺ بھی مغموم و محزون ہوئیں۔نعمت اولاد کے متعلق اللہ کا فرمان قابل غور ہے۔(للہ ملک السمٰوات والأرض یخلق ما یشاء یھب لمن یشاء اناثا ویھب لمن یشاء الذکور٭أو یزوجہم ذکراناوّاناثا ویجعل من یشاء عقیما)”آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کردیتاہے“(سورۃ الشوری آیت:49,50)۔اولاد لڑکا ہو یا لڑکی دونوں اللہ کی طرف سے ایک ایسی نعمت ہے جس سے انسان کو سکون وراحت اور اطمنان قلب حاصل ہوتاہے۔ہر انسان بالعموم اور ایک مسلمان بالخصوص اس بات کا متمنی ہوتا ہے کہ اس کو بھی اولاد صالح نصیب ہو جو اس کے لئے دخول جنت کا سبب اور دنیاوی زندگی کے مسائل میں مددگار ثابت ہو۔جس کے لئے والدین اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں التجاء کرتے ہیں جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعاء کی (رب ھب لی من الصلحین)”اے میرے رب مجھے نیک بخت اولادعطافرما“ (سورۃ الصافات آیت:100)۔اورزکریا علیہ السلام نے نے بھی دعاکی (رب ھب لي من لدنک ذریۃ طیبۃ)
”اے میرے رب مجھے اپنے پاس سے پاکیزہ اولاد عطا کر“ (سورۃ اٰل عمران آیت:38)۔خوش قسمت ہیں وہ والدین جنکی اولاد کو اللہ تعالی صالح نیک اور فرمانبردار بناتا ہے۔نیک اور صالح اولاد کے لئے جہاں اللہ کے دربار میں عاجزوانکساری،دعا اور رجوع کرنا لازمی ہے وہی ان کی صالحیت کا دارومدار والدین کی ذمداری پر بھی ہے۔لہذا والدین جس قدر اپنی ذمداری کو نبھائیں گے اس قدر بچوں میں صالحیت اورفرمانبرداری کا مادہ پیدا ہوگا۔اسلام نے والدین پر کیا ذمداریاں عائد کی ہیں جن کی ادایگی سے اولاد صالح اور فرمانبردار بن سکتی ہے ذیل میں انہی ذمداریوں کو ذکر کیا جائیگا۔
1:اپنے والدین کی فرمانبرداری کرنا:
بچوں کو صالح بنانے کے لئے شریعت نے یہ طریقہ بھی رکھا ہے کہ بچوں کو تربیت کرنے والے والدین پہلے خود اپنے والدین کی فرمانبرداربن جائیں تاکہ اللہ تعالی ان کو ایسی اولاد عطا کرے جو انکی فرمانبردار ہو۔ اللہ رب العالمین نے بندوں کو اپنی عبادت کے ساتھ جس چیز کے خیال رکھنے کا حکم دیا وہ والدین سے حسن سلوک ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے(وقضی ربک اَلّا تعبدوا اِلّا ایاہ وبالوالدین احسانا)” اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا“ (سورۃ بنی اسرائیل آیت:23)۔اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے بعد دوسرے درجہ پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیاہے جس سے والدین کی اطاعت،ان کی خدمت اور ان کے ادب واحترام کی اہمیت واضح ہوئی۔جس سے نہ صرف حکم الٰہی کی تکمیل ہوگی بلکہ (جیسی کرنی ویسی بھرنی)کے مصداق اللہ تعالی آپ کو بھی فرمانبردار اولاد عطا فرمائے گا۔اس کے برعکس اگر آپ نے اپنے والدین کی نافرمانی کی ان کے ساتھ قطع رحمی کا ارتکاب کیا تو یہ نہ صرف ایک بڑا گناہ ہے بلکہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی سزا اللہ تعالی دنیا و آخرت میں دیتا ہے۔اور دنیاوی سزا آپ کے اپنے اولاد کی نافرمانی اور سرکشی کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے(ما من ذنب اَجدر اَن یعجِّلَ اللہ تعالی لصاحبہ العقوبۃ فی الدنیا مع ما یدّخر لہ فی الاٰخرۃ مثل البغي وقطیعۃ الرحم)”کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالی اس کی سزا دنیا میں بھی جلدی دے دے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کی سزا جمع رکھے کہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی ہے“ (سنن ابي داود کتاب الأدب باب فی النہي عن البغي(4902)۔والدین جس قدر اپنے ماں باپ کی خدمت ان کے ساتھ حسن سلوک اورا حسان کریں گے اس قدر ان کی اولاد ویسا ہی سلوک ان کے ساتھ انجام دیں گے۔
: شریک حیات (بچوں کی والدہ)کا صحیح انتخاب۔
شریعت نے مرد پر یہ ذمداری عائد کی ہے کہ وہ اپنی شریک حیات کا انتخاب صحیح اور دین پر مبنی کرے کیونکہ اس شریک حیات کا تعلق نہ صرف مرد کی زندگی سے ہے بلکہ کل آنے والے بچوں کی تربیت کا انحصاربھی اسی پر ہے۔لہذا جس قدر شریک حیات کا انتخاب صحیح اور اسلامی اصولوں کے تابع ہو اسی قدر بچوں میں صالحیت کا کردار پیوست ہو سکتا ہے۔کیونکہ اولاد کے صالح،بااخلاق اور فرمانبردار بننے کی ابتداء والدین کی صحیح تعلیم و تربیت سے ہی ہوتی ہے اور ان کے انحراف و انحطاط کا آغاز بھی والدین (دونوں یا ایک)کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے (کل مولود یولد علی الفطرۃ فأبواہ یھوّدانہ أو ینصّرانہ أو یمجّسانہ) ” ہر بچہ کی پیدائش فطرت(اسلام) پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنادیتے ہیں“ (صحیح البخاری کتاب الجنائز باب ما قیل في أولاد المشرکین(1385)۔
ماں بچوں کی پہلی درسگاہ ہے اس درسگاہ کے انتخاب کے وقت اس بات کو ذہن نشین رکھے کہ درسگاہ(شریک حیات)کا انتخاب اسلام کے وضع کردہ ضوابط کے تحت ہو تاکہ اس درسگاہ میں پرورش پانے والے طلباء(اولاد)کل اپنے والدین کے لئے بھی باعث سکون وراحت اور امت مسلمہ کے لئے بھی سربلندی کا ذریعہ بنے۔اسلام نے بھی اس بات کی طرف توجہ مبذول فرماکرارشاد فرمایا (تنکح المرأۃ لِاربع لمالھا ولحسبھاولجمالھا ولدینھافاظفر بذات الدین)”عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتاہے۔اس کے مال کی وجہ سے اور اسکے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اسکی خوبصورتی کی وجہ سے اور اسکے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کرکے کامیابی حاصل کر“(صحیح البخاری کتاب النکاح باب الأکفاء فی الدین (5090)۔کامیاب اور سعادت مند زندگی اس عورت سے حاصل ہو سکتی ہے جو دین وأخلاق میں نمایا حیثیت رکھتی ہوکیونکہ اس کی دینداری و أخلاقی قدرومنزلت اس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حقوق کا خیال رکھنے کے ساتھ اپنے شوہر واولادکے حقوق کی حفاظت کا بھی جذبہ پیدا کرسکتی ہے جس سے نہ صرف شوہر کو پر سکون اورامن و راحت کی زندگی حاصل ہوگی بلکہ نئی نسل کی صحیح نشؤنما اور تربیت کی عظیم ذمداری کا حق بھی ادا ہو جائے گا۔
3: دعا:
دعا ایک ایسی عبادت ہے جس کے لئے کوئی مخصوص سال،مہینہ،ہفتہ،دن یا ساعت نہیں ہے بلکہ جب اورجس وقت انسان چاہے اللہ کے حضور اپنا دست سوال اس امید اور یقین کے ساتھ دراز کرسکتا ہے کہ میری دعا والتجاء کا مرکز صرف اور صرف ایک اللہ کی ذات ہے اور بس وہی میری دعا قبول کرنے کی طاقت و قدرت رکھتا ہے۔شرعیت میں ماں باپ کو اپنی اولاد کے حق میں دعا کرنے کا اس قدر اہتمام ہے کہ زوجین کو اپنی ازدواجی لقاء سے قبل بھی آنے والی ذریت کے حق میں اللہ سے شیطان مردود کی پناہ حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے تو یہ دعاپڑھے (بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَارَزَقْتَنَا) ”اللہ کے نام سے،اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھ اورجو کچھ تو ہمیں عطا فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ“اور فرمایا!اگر اس سے کوئی اولاد مقدر میں ہوگی تو شیطان اسے (آنے والی اولاد کو)کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔(صحیح البخاری کتاب الدعوات باب ما یقول اذا أتی أہلہ(6388)۔لہذا والدین کا خاص اوقات میں بھی اللہ کو یاد رکھنا ان کی اولاد پر اثر انداز ہوگا اور وہ یقینا شیطانی خصائل و اثرات سے محفوظ رہیں گے۔
والدین پر یہ ذمداری ہے کہ وہ اپنے اولاد کی صحیح تربیت کے ساتھ ساتھ ان کے صالح اور بااخلاق بننے کے لئے اللہ سے دعا کریں۔اولاد کے حق میں والدین کی دعا کو شرف قبولیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ ان میں اخلاص،صدق،رقت قلبی اور انکساری بہت زیادہ ہوتی ہے لہذا اولاد کو چاہیے کہ والدین کے ساتھ باادب،معاون اور مطیع رہے اور ان کی دعا سے حصہ حاصل کرنے والا بنے۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا (ثلاث دعوات مستجابات لا شک فیھن دعوۃ الوالد ودعوۃالمسافرودعوۃ المظلوم)”تین دعاؤں کے قبول ہونے میں شک نہیں باپ کی دعا،مسافر کی دعااور مظلوم کی دعا“ (سنن ابي داود کتاب الوتر باب الدعاء بظھر الغیب(1536)۔قرآن مجید میں اللہ تعالی نے حضرت عمران کی بیوی کا قصہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس (ماں)نے اپنے بچے کے لئے اللہ سے دعا کی (اني اعیذھا بک وذریتھامن الشیطان الرجیم)”(اے اللہ)میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں“(سورۃ اٰل عمران آیت:36)۔اللہ تعالی نے یہ دعا قبول فرمائی چناچہ حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا ”جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اس کو مس کرتا (چھوتا)ہے جس سے وہ چیختا ہے۔لیکن اللہ تعالی نے اس مس شیطان سے حضرت مریم علیھا السلام اور انکے بیٹے (عیسی علیہ السلام)کو محفوظ رکھا“ (صحیح البخاری کتاب التفسیر باب اني أعیذھا بک وذریتھامن الشیطان الرجیم(4548)۔معلوم ہوا کہ ماں باپ کی دعا اولاد کے حق میں قبول کی جاتی ہے لہذاوالدین کو اپنی اولاد کے حق میں بہت زیادہ دعا کرنی چاہئے۔
4: تعلیم و تربیت
اللہ تعالی کا فرمان ہے (یٰأیھا الذین آمنواقوا أنفسکم وأھلیکم ناراوقودھا الناس والحجارۃ)”اے ایمان والو!تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہے“ (سورۃ التحریم آیت:6)۔”عبد الرحمن بن ناصربن عبد اللہ السعدی رحمہ اللہ“اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’(قوا أنفسکم وأھلیکم نارا) (اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ)نفس کو بچانا یہ ہے اس سے اطاعت کا،اللہ تعالی کے اوامر کا،اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کرایا جائے جن سے اللہ تعالی ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں۔اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب و علم سکھایا جائے اور ان کو اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں،جو اس کی سر پرستی میں اور اس کے تصرف میں ہوں،اللہ تعالی کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے‘(تیسیر الکریم الرحمن فی تفسیر کلام المنان جلد(1) صفحۃ(874))۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما فرماتے ہیں (أدّب ابنک فاِنَّک مسؤل عنہ ماذا أدّبتہ وماذا علّمتہ)”اپنی اولاد کو ادب سکھاو ئکیونکہ آپ کو اس کے ادب اور اس کی تعلیم کے متعلق پوچھا جائے گا“ (تحفۃ المودودبأحکام المولود۔۔ابن القیم۔ ص(225))۔
تعلیم:بچوں کی تعلیم کی ابتداء اور آغاز اسلام کے رکن اول یعنی اللہ تعالی کی معرفت پہچان اور وحدانیت سے ہو۔یعنی ان کو خالق حقیقی معبود برحق کی صحیح پہچان دیکر اللہ تعالی کی ذات کا تعارف اس طرح دیں جس طرح اللہ کے رسول ﷺ نے دیا(یاغلام اني اعلّمک کلمات،احفظ اللہ یحفظک،احفظ اللہ تجدْہ تجاھک،اذا سألت فاسألِ اللہ،واذا اسْتعنْت فاستعن باللہ وأعلم ان الأمۃ لو اجتمعت علی أن ینفعوک بشيء لم ینفعوک بشيء قد کتبہ اللہ لک ولو اجتمعوا علی أن یضروک بشيء لم یضروک الابشيء کتبہ اللہ علیک رفعت الأقلام وجفت الصحف)”اے لڑکے!میں تمہیں چند باتیں بتاتا ہوں۔تو اللہ کے احکام کی حفاظت(پابندی) کروہ (اللہ)تیری حفاظت کرے گا،تو اللہ کے احکام کی حفاظت کر،تو اسے اپنے سامنے پائے گا۔جب تو (کسی بھی چیز کا)سوال کرے تو اللہ تعالی ہی سے سوال کر۔جب تو مدد طلب کرے تو اللہ ہی سے مدد مانگ۔یاد رکھ ساری دنیا جمع ہوکر تجھے فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تجھے کسی بات کا فائدہ اور نفع نہیں دے سکتی سوائے اس کے جو اللہ تعالی نے تیرے لیے مقدر کررکھاہے۔اور اگر سارے لوگ مل کر تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ تیرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے سوائے اس نقصان کے جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر رکھا ہو۔قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں“ (سنن الترمزی أبواب صفۃ القیامۃوالرقائق والورع باب ماجاء في صفۃ أوانيالحوض (2516)۔
قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اپنے پیارے بندے لقمان کی اپنے بیٹے کو کی ہوئی وصیت میں جن کا تذکرہ فرمایا ان میں یہ نصیحت بھی تھی (واذقال لقمٰن لابنہ وہو یعظہ یٰبني لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم)”اے میرے پیارے بچے! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا بیشک شرک بڑا بھاری ظلم ہے“(سورۃ لقمان آیت:13)۔اللہ تعالی نے حضرت لقمان کی سب سے پہلی وصیت یہ نقل فرمائی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو شرک سے منع فرمایا،جس سے یہ واضح ہوا کہ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو شرک سے بچانے کی سب سے زیادہ کوشش کریں اور اپنی اولاد کو یہ بات ذہن میں راسخ کریں کہ اللہ اپنی ذات میں بھی لاشریک ہے اور اپنے صفات میں بھی لاشریک ہے۔اللہ تعالی کی صحیح پہچان کے بعدوالدین اپنے بچوں کو اسلام کے باقی ارکان کی تعلیم سے آگاہ کریں جیسا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سکھایاہے۔(مروا أولادکم بالصلاۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوعلیھم وھم ابناء عشر وفرقوابینھم فی المضاجع) ”اپنے بچوں کو جب وہ سات سال کے ہوجائیں تو نماز کا حکم دو اور جب دس سال کے ہوجائیں تو انہیں اس (نماز نہ پڑھنے)پر مارو اور ان کے بستر جدا جدا کرو“ (سنن ابي داود کتاب الصلاۃ باب متی یؤمر الغلام بالصلاۃ(495)۔بچپن میں ہی نمازکا اہتمام اور بستر الگ کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ بچوں کو اللہ تعالی کے احکام کی تعلیم اور اس پر عمل کرنے کی ترغیب ملے اورغیر اخلاقی حرکتوں سے اجتناب کرے۔(عون المعبود شرح سنن ابي داود جلد(2)ص(115)۔بچوں کو نماز کا پابند بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ والدین خود نماز کے پابند رہیں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے(واْمر اھلک بالصلاۃ والصطبرعلیھا) ”اپنے گھرانے کے لوگوں پر نماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما رہ“(سورۃ طہ آیت:132)۔اس خطاب میں ساری امت نبی اکرم ﷺ کے تابع ہے۔یعنی مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خود بھی نماز کی پابندی کرے اور اپنے گھروالوں کو بھی نماز کی تاکید کرتا رہے۔اور اسلام کے باقی ارکان(روزہ،زکوٰۃ اور حج)کی اہمیت وافادیت کو بھی واضح کرے۔
تربیت:تربیت کا معنی و مفہوم ہے(تبلیغ الشیء الی کمالہ شیئا فشیئا)”کسی چیز کو اس کے کمال تک آہستہ آہستہ پنہچانا“(أصول التربیۃ الاسلامیۃواسالیبھا لعبد الرحمٰن النحلاوي جلد(1)ص(16)۔والدین پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایمان و اخلاقیات کے بام عروج اور تعلیم و ہنر کے اعلی درجہ تک تدرج کے ساتھ ہمکنار کریں۔اور بچوں کی روزمرہ زندگی میں تربیت کے حوالے سے مندرجہ ذیل امور کا بچوں کو حکم کریں:۔
۱:گھر میں آتے جاتے وقت سلام کرنا۔حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا(یا بنيَّ اذا دخلت علی أھلک فسلّم یکون برکۃ علیک وعلی أھل بیتک)”اے بیٹے!جب تو اپنے گھر میں داخل ہو تو اپنے گھر والوں کو سلام کر یہ برکت ہوگی تجھ پر اور تیرے گھر والوں پر“(سنن الترمزی أبواب الاستئذان والآداب باب ماجاء في التسلیم اذا دخل بیتہ(2698)۔
۲:شرعی لباس پہننا:اللہ تعالی کا ارشاد ہے(یٰبني آدم قد أنزلنا علیکم لباسا یُّواري سواٰتکم وریشا ولباس التقوی ذٰلک خیر)”اے آدم (علیہ السلام)کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیا جوتمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے اور تقوی کا لباس یہ اس سے بڑھ کر ہے“(سورۃ الأعراف آیت:26)۔
۳:اپنے آنکھوں کی (غیر محرم سے)حفاظت کرنا۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے(قل للمؤمنین یغضوا من أبصارھم ویحفظوافروجھم)(وقل للمؤمنات یغضضن من أبصارھن ویحفظن فروجھن)”مسلمان مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنے شرمگاہوں کی حفاظت رکھیں“ ”اور مسلمان عورتوں سے کہو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں“(سورۃ النور آیت:30،31)۔
۴:راستے کے حقوق ادا کرنا۔رسول اللہ ﷺ انصار کی ایک جماعت سے گزرے جو راستے میں بیٹھے تھے تو ان کو فرمایا(ان کنتم لابد فاعلین فردوا السلام،وأعینوا المظلوم،واھدوا السبیل)”اگر تم کو ضروری ہے یہاں (راستہ میں) بیٹھنا تو سلام کا جواب دو،اور مظلوم کی مدد کرو،اور بھولے ہوئے کو راستہ دکھاؤ“(سنن الترمزی أبواب الاستئذان والآداب باب ماجاء في الجالس علی الطریق(2726)۔دوسری روایت میں اللہ کے رسول ﷺنے راستے کے حقوق یو ں بیان کئے(غض البصر، و کف الأذی، ورد السلام، وأمرٌ بالمعروف و نھيٌ عن المنکر) ”نگاہ نیچی رکھنا،کسی کو ایذاء دینے سے بچنا،سلام کا جواب دینا،اچھی باتوں کے لیے لوگوں کو حکم کرنا،اور بری باتوں سے روکنا“(صحیح البخاری کتاب المظالم والغصب باب أفنیۃ الدوروالجلوس فیھا والجلوس علی الصعدات(2465)۔
۵:بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت کرنا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (من لم یرحم صغیرنا ویعرف حق کبیرنافلیس منا)”جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا حق (احترام)نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں“(سنن ابي داود کتاب الأدب باب فی الرحمۃ(4943)۔
۶:سچ بولنا اور جھٹ بولنے سے بچنا۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے (یٰأیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سدیدا)”اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو اور سیدھی سیدھی (سچی)باتیں کیا کرو“(سورۃ الأحزاب آیت: 70)۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا(ان الصدق یھدي الی البر وان البر یھدي الی الجنۃ،وان الکذب یھدي الی الفجور وان الفجور یھدي الی النار)”بلا شبہ سچ آدمی کو نیکی کی طرف بلاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے،اور بلاشبہ جھوٹ برائی کی طرف لے جاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف“(صحیح البخاری کتاب الأدب باب قول اللہ تعالی (یٰأیھا الذین اٰمنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین)(6094)۔
۷:امانت اور عہد (وعدہ) کی حفاظت کرنا۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا(آیۃ المنافق ثلاثٌ،اذا حدّث کذب،واذا وعد أخلف،واذا اؤتمن خان)”منافق کی علامتیں تین ہیں۔جب بات کرے جھوٹ بولے،جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے“(صحیح البخاری کتاب الِایمان باب علامۃ المنافق(33)۔
۸:دوست و احباب کا صحیح انتخاب کرنا۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا(الرجل علی دین خلیلہ فلینظرأحدکم من یخالل)”انسان اپنے محبوب ساتھی کے دین پر ہوتا ہے۔تو تمہیں چاہیے کہ غور کرو کس سے دوستی کر رہے ہو“(سنن ابي داود کتاب الأدب باب من یؤمر أن یجالس(4833)۔
۹:اپنے ہاتھ اور زبان سے کسی دوسرے کو تکلیف نہ دینا۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا(المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ)”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے (محفوظ)رہیں“(صحیح البخاری کتاب الِایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ (10)۔
۰۱:سلام عام(سب کو) کرنا۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا(والذی نفسي بیدہ،لا تدخلوا الجنۃ حتی تؤمنوا،ولا تؤمنوا حتی تحابُّوا،اَولا أدلکم علی شیء اذا فعلتموہ تحاببتم؟ أفشوا السلام بینکم)”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم جنت میں داخل نہیں ہوسکتے حتی کہ ایمان والے بن جاؤ،اور تم مومن نہیں بن سکتے؟حتی کہ آپس میں محبت رکھو،کیا تم کو ایک چیز نہ بتاؤں جب تم وہ عمل کرو گے تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے؟ آپس میں سلام کو عام کرو“(سنن ابن ماجہ کتاب الأدب باب اِفشاء السلام (3692)۔
۱۱:حلال اور پاکیزہ غذا کھانا۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے(کلوا من طیبٰت ما رزقناکم ولا تطغَوْا فیہ فیحل علیکم غضبي ومن یحلل علیہ غضبي فقد ہویٰ)”تم ہماری دی ہوئی پاکیزہ روزی کھاؤ اور اس میں حد سے آگے نہ بڑھو (حلال اور جائز چیزوں کو چھوڑ کرحرام اور ناجائز چیزوں کی طرف مت جاؤ)ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا،اور جس پر میرا غضب نازل ہو جائے وہ یقینا تباہ ہوا“(سورۃ طہ آیت:81)۔
۲۱:غیر محرم (مرد وزن)کے اختلاط سے بچنا۔اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا(لا یخلُونَّ رجلٌ باِمرأۃ الّا کان ثالثہما الشیطان)”کوئی مرد کسی (غیر محرم)عورت کے ساتھ تنہائی ہرگز اختیارنہ کرے کیونکہ ان (غیر محرم مرد و عورت)کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے“(سنن الترمزی أبواب الفتن باب ماجاء في لزوم الجماعۃ(2165)۔
مندرجہ بالا نصوص سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام نے والدین اور اولاد کے درمیان رشتے کو مضبوط سے مضبوط ترین بنانے اوراس رشتہ کو استحکام بخشنے اور اولاد کی دنیا و آخرت کو سنوارنے کے لیے آپس میں کچھ حقوق اور ذمداریاں متعین کی ہے۔ والدین جس قدر اپنی اولاد کے تئیں حقوق کی ادایگی کا احتمام کریں گے اس قدر اولاد اپنے والدین کے لیے دنیا وآخرت میں آنکھوں کی ٹھنڈک اور سعادت مندی کا سبب بن سکتی ہے۔اللہ تعالی والدین کو اپنی ذمداریاں نبھانے اوراولاد کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطاکراولاد کو والدین سے حسن سلوک،احسان اور فرمانبرداری کی توفیق عطا کرے۔(آمین یا رب العالمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں