طویل ترین خشک سالی سے راحت ملنے کی امید ؛ 14اور15نومبر سے بھاری برفباری کی پیشگوئی

14اور15نومبر کے لئے ’نارنگی الرٹ‘ جاری
درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری کی پیشگوئی،زمینی وفضائی رابطے متاثر ہو نے کا امکان،متعلقہ محکمہ جات متحرک
سرینگر/وادی کشمیر میں طویل عرصے سے جاری خشک سالی سے راحت ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے،کیوں کہ محکمہ موسمیات14اور15نومبر کے لئے ”آرینج“(نارنگی الرٹ) جاری کرتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ اس عرصے کے دوران پیر پنچال کے آر پار درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری ہونے کا قوی امکان ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے سے وادی کشمیر میں سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جانے سے جہاں مطلع ابر وآلود بنا ہوا ہے،وہیں طویل ترین خشک سالی سے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔کئی علاقوں میں لوگ پانی کی عدم دستیابی پر سراپا احتجاج ہے۔اس کے علاوہ بر قی رو کی سپلائی مسلسل منقطع رہنے سے بھی لوگوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر محکمہ موسمیات نے راحت کی نوید سناتے ہوئے پیشگوئی کی ہے کہ آنے والے دنوں میں پیر پنچال کے آر پار موسم تر ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے کیوں کہ مغربی ہوائیں جموں وکشمیر کی فضاؤں پر اثر انداز ہورہی ہیں۔محکمہ موسمیات کے ترجمان نے اس سلسلے میں 14اور15نومبر کے لئے آرینج (نارنگی الرٹ) جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ13اور14نومبر کی درمیانی رات کو موسمی تبدیلی کا قوی امکان ہے،جس دوران پیر پنچال کے آر پار میدانوں علاقوں میں بارش اور بالائی علاقوں میں درمیانہ درجے سے لیکر بھاری برفباری ہونے کا امکان ہے۔ان کا کہناتھا کہ چند ایک مقامات پر بھاری برفباری ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ14اور15نومبر کو یہ سلسلہ مسلسل دوروز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق پیر پنچال کے آر پار کہیں کہیں بھاری برفباری اور موسلادھار بارشیں ہوں گی۔ایک رپورٹ کے مطابق 14اور15اگست کو پیر پنچال کے آر پار موسمی تبدیلی کی پیش گوئی کے سبب خطہ لداخ میں بھی ان دو روز کے دوران برفباری اور بارش ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق بارشو ں اور برفباری سے زمینی اور فضائی رابطے متاثر ہونے کا بھی امکان ہے جبکہ دونوں رابطوں کے حوالے سے انڈین میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ (آئی ایم ڈی)نے وارننگ (الرٹ) جاری کیا ہے۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 0.1ڈگری سیلسیس درج کیا گیا جبکہ گیٹ وے آف کشمیر میں رات کا درجہ حرارت منفی0.2ڈگری سیلسیس،سیاحتی مقام پہلگام میں یہ درجہ حرارت منفی 1.6ڈگری سیلسیس،سرحدی ضلع کپوارہ میں رات کا درجہ حرارت منفی 1.8ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق کوکرناگ میں رات کا درجہ حرارت 2.1ڈگری،مشہور ومعروف سیاحتی مقام گلمرگ میں رات کا درجہ حرارت 1.0ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔جموں میں رات کا درجہ حرارت11.3ڈگری،کٹرا میں 12.0ڈگری،بانہال میں 2.4ڈگری،بھدرواہ میں 3.3ڈگری اوربٹوت میں 7.7ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔اس دوران صوبائی انتظامیہ نے کسی بھی ہنگامی صورت ِ حال سے نمٹنے کے لئے ایس ایم سی،یو ای ای ڈی،آر اینڈ بی،اری گیشن اینڈ فلڈ کنٹرول،جل شکتی (پی ایچ ای) پی ایچ ای میکنکل،پی ڈی ڈی سمیت سبھی متعلقہ محکمہ جات کے ملازمین کو متحرک رہنے کی ہدایت دی ہے۔ڈی سی سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال کا کہنا ہے کہ کسی بھی موسمی صورت ِ حال سے نمٹنے کے لئے ضلع انتظامیہ تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ بارشوں اور برفباری کی پیش گوئی کے پیش نظر برف ہٹانے والی مشینوں کو حرکت میں رکھا گیا جبکہ افرادی قوت کو بھی کسی بھی ہنگامی صورت ِ حال سے نمٹنے کے لئے تیار رکھا گیا ہے۔ادھر وادی کشمیر میں طویل ترین خشک سالی کے سبب پانی کی شد ید قلت پیدا ہوگئی ہے۔شہر ودیہات میں لوگ پانی کی عدم دستیابی پر سراپا احتجاج ہے۔محکمہ پی ایچ ای (جل شکتی) یعنی آب رسانی کا کہنا ہے کہ خشک سالی کے سبب ندی نالوں میں سطح پر میں مسلسل گراؤٹ درج کی گئی جسکی وجہ سے کئی واٹر سپلائی اسکیمیں متاثر ہوئیں،تاہم عوام کو ضرورت کے مطابق پانی کی سپلائی فراہم کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا ’پانی کی قلعی طور منقطع نہیں ہے،البتہ مرحلہ وار بنیادوں پر پانی کی سپلائی کی جارہی ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر علاقوں میں پانی کے ٹینکروں کے ذریعے بھی سپلائی کی جارہی ہے‘۔ان کا کہناتھا کہ لوگ پانی کی صحیح استعمال کریں اور پینے کے پانی فضول میں ضائع نہ کریں۔اس دوران وادی کشمیر میں بجلی کٹوتی شیڈول لاگو ہوچکا ہے۔موسم سر ما کے دوران بجلی کٹوتی نئی بات نہیں ہے البتہ محکمہ شیڈول کے عین مطابق بجلی سپلائی میں ناکام ثابت ہورہا ہے۔محکمہ کے ذمہ داراروں کا کہنا ہے کہ میٹر اور بغیر میٹر علاقوں میں شیڈول کے مطابق بجلی کٹوتی کی جارہی ہے،تاہم صارفین بجلی پر چلنے والے گرمی کے آلات،ہیٹر بیولر وغیر کا استعمال کم کریں تو بجلی سپلائی میں بہتری آسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ موسم سر ما کے دوران بجلی کی پیدا وار اور ضرورت میں واضح فرق پیدا ہوتا ہے،جسے دور کرنے کے لئے کئی سطحوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں