دسویں،گیارویں اور بارہویں جماعت امتحانات کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے کے اندر اندر لیا جائیگا / بورڈ چیرمین وینا پنڈتا

امتحانات کا حتمی فیصلہ ایک ہفتے کے اندر اندر لیا جائیگا / بورڈ چیرمین وینا پنڈتا
دسویں،گیارویں اور بارہویں جماعت کے طلباء تذبذب میں مبتلا،ماس پروموشن کے مطالبے کو لیکر شہر ودیہات میں طلباء کا احتجاج
سرینگر/دسویں،گیارہویں اور بارویں جماعت کے امتحانات سے متعلق تذبذب برقرار ہے تاکہ بورڈ چیرمین نے واضح کر دیا ہے کہ اس معاملے کو لیکر ایک ہفتے کے اندر اندر صورتحال واضح ہوجائیگی،الفا نیوز سروس کے مطابق دسویں،گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کو لیکر وادی بھر میں تذبذب برقرار ہے اور اس سلسلے میں شہر ودیہات میں طلباء ماس پرموشن کا مطالبہ کررہے ہیں جو لیکر کئی جگہوں پر طلباء احتجاج بھی کر رہے ہیں، طلباء کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوڈ ور دیگر حالات کی وجہ سے امتحانی نصاب مکمل نہیں کیا ہے اور حالیہ دنوں شوپیان میں طلباء نے ماس پروموشن کے مطالبے کو لیکر احتجاج شروع کردیا،وہ الزام لگا رہے تھے کہ آئے روز شوپیان اور اس کے مضافات میں مواصلاتی نظام بند ہوجاتا ہے اور کئی کئی روز تک یہ بند ہی رہ جاتا ہے جس کے نتیجے میں طلباء ویڈیو کلاس بھی اٹینٹ نہیں کر پارے ہیں اور وہ سلیبس بھی مکمل نہیں کرپارہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے نصاب ہی مکمل نہیں کیا تو پھر وہ امتحانات کو کس طر ح سے اچھے نمبرات سے پاس کرسکتے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہاکہ اگر ماس پروموشن نہیں دی جائیگی تو پھر سلبس کو اس حد تک کم کیا جائے جس میں طلباء کیلئے رعایت ہو، اس دوران سرینگر کی پریس کالونی نے بھی طلباء نے احتجاج کیا اور ماس پروموشن کا مطالبہ کررہے تھے،انہوں نے بھی اپنی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت شدید تذبذب کے شکار ہیں،کیونکہ وقت بہت ہی کم رہ گیا ہے اور ایسے میں بور ڑ حکام کی جانب سے ابھی تک ان کیلئے کوئی رعایتی اعلان نہیں کیا جارہا ہے،چنانچہ طلباء میں جاری تذبذب کو ختم کرنے کیلئے بورڈ حکام نے بھی تازہ اقدامات شرو ع کردیئے ہیں اور اس سلسلے میں مشاورت بھی جاری ہے، الفا نیوز سروس کے مطابق بورڈ کے چیرمین وینا پنڈتا کا کہان تھا کہ ابھی تک سرکاری سطح پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے کہ آیا ان امتحانات میں شامل امیدوروں کو ماس پروموشن دی جائے یا نہیں یا پھر امتحانات لئے جائیں گے یا نہیں، لیکن ایک بار ضرور ہے کہ پچھلی میٹنگ میں اس سلسلے میں کئی پہلووں پر غور کیا گیا ہے، اور اس وقت یہ میٹنگ سابق کمشنر سیکریٹری ایجوکیشن اصغر سامون کیساتھ ہوئی تھی،جس میں اس بات پر بھی سوچ وچار کیا گیا تھا کہ آیا گیارویں، بارہویں اور دسویں جماعت کے امتحانات نومبر کے پہلے ہفتے میں منعقد کرائے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ فی الوقت کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے،اور نہ ہی بورڈ نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ لیا ہے،وینا پنڈتا کا کہنا تھا کہ اگر چہ ابھی تک کوئی بھی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے لیکن ایک ہفتے کے اندر اندر حتمی فیصلہ ضرور لیا جائیگا،انہوں نے کہا کہ بورڈ نے اب نئے کمشنر سیکریٹری کی نوٹس میں یہ معاملات لائے ہیں اور ایسے میں متعلقہ محکمہ نے بشوجیت سنگھ کیساتھ معاملات پر بحث ہوئی ہے تاہم امید ہے کہ آنے والے چند دنوں کے اندر اس سلسلے میں ان کیساتھ حتمی میٹنگ ہوگی جس میں حتمی فیصلہ لیا جائیگا،جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ماس پروموشن کے کچھ آثار ہیں تو انہوں نے کہاکہ اس معاملے پر بھی آنے والے دنوں میں میٹنگ میں فیصلہ ضرور لیا جائیگا، الفا نیوز سروس کے مطابق بورڈ حکام پر طلباء کی نظریں مرکوز ہیں او ر ایسے میں حالیہ دنوں سے جو احتجاجی عمل شروع ہوگیا ہے اس سکی وجہ سے بورڈ حکام بھی خاصے پریشانی میں آگئے ہیں،اگر چہ کوڈ میں قدرے کمی آنے کی وجہ سے سرکار نے امتحانات منعقد کرانے کا فیصلہ لیا ہے جس کے تحت پروائیوٹ گیارویں جماعت کے امتحانات منعقد ہوئے ہیں، بتایا جاتا ہے کہ اب امتحانات کو لیکر طلباء میں تذبذب کی کیفیت بھی پائی جارہی ہے کیونکہ شہرو دیہات میں بھی طلباء اس ذہنی کیفیت کا سامنا کررہے ہیں،بتایا جاتا ہے کہ طلباء کو ذہنی کیفیت سے نکالنے کیلئے بورڈ حکام اس معاملے کو لیکر تیزی سے کام کررہی ہے، تاہم بتایا جاتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ہونے والی میٹنگوں میں حتمی فیصلہ لیا جائیگا، الفا نیوز سروس کے مطابق اس ضمن میں والدین بھی طلباء کے امتحانات کو لیکر فکر مند ہیں اور ایسے میں تشویش میں وہ مبتلا ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں