کیا شرط رکھی پاکستان نے کشمیر مسئلے پر بات چیت کے لئے….

پاکستان نے بھارت کے ساتھ بامعنی مذکرات کے لئے بڑی شرط رکھ دی
جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کی جائے، سیاسی قیدیوں کی رہائی مذکرات کے اہم شرائط
بھارت کی جانب سے کسی بھی غلطی کا بھر پور جواب دیا جائے گا/پاکستان
سرینگر: (شہربین ٹائمز/سی این آئی/ مانٹرینگ رپورٹ) پاکستان نے بھارت سے بامعنی مذاکرات کیلئے بڑی شرائط رکھ دی ہے،پاکستان کے معاون خصوصی قومی سلامتی امور معید یوسف نے کہا کہ مذاکرات کیلئے کشمیر کے سیاسی قیدیوں کو فوری رہا کیا جائے، فوجی محاصرے کا خاتمہ کیا جائے،دفعہ 370اورآرٹیکل 35Aکو واپس لایا جائے۔شہربین ٹائمز مانٹرینگ رپورٹ کے مطابق معید یوسف نے بھارتی صحافی کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ مودی حکومت توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں تنہا رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں فوجی محاصرے کو ختم کئے بغیر مذاکرات ناممکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری اس تنازع میں سب سے اہم فریق ہیں۔ پاکستان اپنے پڑوس میں قیام امن کیلئے کوشاں ہے۔ معید یوسف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت سے بامعنی مذاکرات کیلئے شرائط رکھی ہے کہ کشمیر کے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کی جائے۔ کشمیرمیں غیر انسانی فوجی محاصرے کا خاتمہ کیا جائے۔ کشمیر میں آبادی کے تناسب کی تبدیلی کے لاگو قانون کا خاتمہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری لوگ بات چیت کے اہم فریق ہے اور اُنکے بغیر بھارت کے ساتھ کوئی بھی بات نہیں ہوسکتی ہے۔سرینگر کی نیوز ایجسنی سی این آئی مانٹرینگ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امورمعید یوسف نے کہا ہے کہ بھارت سمیت دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان بہتر تعلقات کا خواہاں ہے تاہم بھارت کشمیر میں جاری مظالم کو روک لے اور خصوصی پوزیشن کو پہلے بحال کریں۔ وادی کشمیر کے سیاسی قیدیوں کو فوری رہا جائے اور غیر انسانی فوجی محاصرے کا خاتمہ کیا جائے، وادی کشمیر میں آبادی کا تناسب کی تبدیلی کے لاگو قانون کا خاتمہ کیا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے ثبوت موجود ہیں، اے پی ایس حملے کے ماسٹر مائنڈ حملے کے وقت بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے رابطے میں تھا، پاکستان کے پاس بھارت سے کی گئی فون کالز کے ثبوت بھی موجود ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ اگر مودی حکومت”کشمیریوں پر ظلم“بند کر دے تو بھارت سے مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارت کی دہشت گردوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے ثبوت موجود ہیں، اے پی ایس حملے کے ماسٹر مائنڈ حملے کے وقت بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے رابطے میں تھا، پاکستان کے پاس بھارت سے کی گئی فون کالز کے ثبوت بھی موجود ہے۔معید یوسف کا کہنا تھا کہ را نے ایک پڑوسی ملک میں موجود سفارت خانے کے ذریعے چینی قونصل خانے، پی سی گوادر اور اسٹاک ایکسچینج پر حملہ کروایا جب کہ حال ہی میں را افسران کی نگرانی میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور دہشت گرد تنظیموں کو ضم کیا گیا اور اس کے لیے 10 لاکھ ڈالر دیے گئے، چینی قونصلیٹ حملے میں ملوث اسلم اچھو کا علاج نئی دلی کے پرائمس اسپتال میں ہونے کے ثبوت موجود ہیں۔معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا تھا کہ وادی کشمیر کے سیاسی قیدیوں کو فوری رہا جائے اور غیر انسانی فوجی محاصرے کا خاتمہ کیا جائے، وادی کشمیر میں آبادی کا تناسب کی تبدیلی کے لاگو قانون کا خاتمہ کیا جائے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے۔معاون خصوصی معید یوسف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے، پاکستان امن چاہتا ہے لیکن بھارت کی ہندتوا حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں حائل ہیں، مودی حکومت توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں تنہا رہ گئی ہے، بھارت کی کشمیریوں پر بربریت اور فوجی محاصرے کو ختم کیے بغیر مذاکرات ناممکن ہیں۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ تنازعہ کے حل اور کشمیریوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لئے پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ساتھ ہے تاہم بھارتی پروپیگنڈا مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے اصولی موقف کو تبدیل نہیں کرسکتا، بھارت میں میرا ہم منصب مذاکرات کے ہر راستے کو بند کرنے میں مصروف ہے، پاکستان امن کی خواہش رکھتا ہے اور بھارت کے ساتھ کسی بھی مکالمے کا خیرمقدم کرے گا اگر بھارت وادی کشمیر میں کشمیریوں کی زندگی معمول پر لائے، کشمیریوں کو مذاکرات میں پرنسپل پارٹی تسلیم کرے اور بھارت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرپرستی بند کرے۔معید یوسف کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کی غلطی کے نتیجہ میں پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل آئے گا، دنیا کو نظر آرہا ہے کہ کون سا ملک امن پسند ہے اور کون سا اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جنگ پر تلا ہے، اگر مودی حکومت کشمیریوں پر ظلم بند کر دے تو مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں